Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Last Episode 7

0

زندگی دو پل کی از انسیا اعوان – آخری قسط نمبر 7

–**–**–

بریرہ سبحان کی دوائیاں دیکھ رہی تھی. اس نے میڈیکل پڑھا تھا اسے ہر دوائی کی سمجھ تھی.. عین اسی وقت سبحان باتھروم سے نکلا. بریرہ نے آنکھ اٹھا کر اوپر دیکھا…
“تم زینب سے بات کر رہے تھے نہ؟” سبحان کے چہرے پہ بارہ بج گئے…
“تم میری باتیں سن رہی تھی.. ؟”
“نہیں اندازہ لگایا.. کہ تم نے اس سے کہا ہو گا کہ وہ مجھے اسلام آباد واپس آنے کا بولے..” سبحان شاکڈ کھڑا تھا..
“تو غلط کیا ہے اس میں”
“سبحان میں زینب کی نہیں سنو گی.. وہ ہمیشہ ہر آرگیو میں مجھ سے جتتی آئی ہے لیکن اس بار نہیں..”
“تم بلاوجہ کی ضد….” بولتے بولتے سبحان کو درد محسوس ہوا… “آہ” بریرہ دوڑ کے اسکے پاس گئی “سبحان”
مسرت بھی بیٹے کی آہ سن کر وہاں آگئیں… بریرہ سبحان کو سہارا دے کر بیڈ تک لائی اور درد کی دوا دی…
“سبحان سچی… مجھے اپنی خدمت کرنے دو…مت بھیجو یہاں سے مجھے” سبحان خاموش تھا..
“سبحان تم کچھ…”
“بریرہ میں نہیں کر سکتا تم سے نکاح… سمجھی… اور نہ ہی تم یہاں رہ سکتی ہو…” اس نے ایک بار پھر سے ٹال دیا..
“ٹھیک ہے میں چلی جاؤنگی یہاں سے.. اگر تمہیں لگتا ہے تمہارے بغیر میں خوش رہ پاؤنگی تو ٹھیک ہے چلی جاتی ہوں.. لیکن نہ میں شادی کرونگی نہ میں خوش رہونگی..” وہ اٹھ کر جانے ہی لگی کہ مسرت نے اسکا ہاٹھ پکڑا..
“بیٹا اسکی بات مان لو..” وہ سبحان سے مخاطب ہوں..
“امی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں…؟” سبحان حیرانگی میں ماں کو دیکھنے لگا…
“جب سے یہ آئی ہے.. تمہاری آنکھوں کی افسردگی مجھے کم لگی ہے… اسکے وجود سے تمہیں تکلیف نہیں راحت پہنچی گی.. ہمیشہ کی طرح دماغ کی مت سوچو سبحان دل کی سوچو” ماں کی بات نے سبحان کو سوچنے پہ مجبور کر دیا. وہ ٹھیک تھیں وہ دماغ کی ہی سوچ رہا تھا. دل بیجارہ تو کب سے یہی کہہ رہا تھا کہ روک لو بریرہ کو.. کر لو نکاح.. وہ تمہارا سکون ہے.. لیکن وہ پھر بھی وہ دماغ کی بات کو ترجیح دے رہا تھا.. وہ ہر بار دماغ کی سوچ کر تکلیف اٹھاتا تھا اس بار چلو دل کی سن لیتے ہیں. اس نے سوچا
“اوکے میں تیار ہوں…” بریرہ کی آنکھیں کھل اٹھیں. مسرت بھی مسکرا دیں. سبحان خاموش تھا. وہ سوچ رہا تھا کہ یہ فیصلہ ٹھیک ہے کہ نہیں..
“سادہ سا نکاح ہو گا امی..” وہ دونوں کو دیکھ کر بولا.
“ہاں ٹھیک ہے.. میں مولوی کو بلوا لاتی ہوں” مسرت کے جاتے ہی بریرہ بھی باہر آئی.. اس نے اپنی ماں کا لال ڈوپٹہ سر پہ اوڑھا اور خود کو آئینے میں دیکھا. وہ بے حد خوش تھی لیکن کچھ پریشان بھی.. سبحان کی بیماری کا کیا ہو گا. یہ فیصلہ ٹھیک ہے کی نہیں.. بہت سے سوالات اس کے ذہن میں آئے لیکن اگلے ہی لمحے اس نے دماغ مین آتے خیالوں کو جھٹکا…
“جو بھی ہو گا دیکھا جائے گا.. ابھی تو میری خواہش پوری ہو رہی ہے…” چمک پھر اسکی آنکھوں میں نمایاں تھی…
اتنے میں مولوی اور کچھ گواہ بھی آگئے.. کچھ دیر انتظار کے بعد نکاح شروع ہوا.. اور ایک قبول ہے بولنے کے بعد رشتے بدل گئے. وہ دوست سے میاں بیوی بن گئے.. ایک دوسرے کے ہمسفر بن گئے.. سبحان نے نظریں اوپر اٹھا کر دیکھا اور اسکی نظریں بریرہ سے جا ملیں..
میرے ساتھی میرے دلبر
میرے ساتھ یونہی چلنا
بدلے گا رنگ زمانہ
پر تم نہیں بدلنا
مجھے چھوڑ کے نہ جانا وعدے ہزار کر کے
آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے
وہ بہار ہی بن کر آئی تھی اسکی زندگی میں. اسے اس وقت بریرہ پہ بے حد پیار آیا.. وہ مسکرا رہی تھی اور لال رنگ کے دوپٹے میں بے حد حسین لگ رہی تھی. وہ یہی مسکراہٹ اسکے چہرے پہ دیکھنا چاہتا تھا. اب وہ سکون سے مر سکے گا….
*****************
زینب نے گھر بیٹھے بیٹھے بریرہ کو فون ملایا لیکن فون کاٹ دیا گیا. اسکے ذہن میں تھا کہ وہ بریرہ کو واپس آنے کا کہے گی. سبحان کی یہ بات تو پوری کرے گی. کچھ دیر بعد اسکے موبائل پہ کال آئی.. اس نے فون ان لاک کیا تو بریرہ کا فون آ رہا تھا. اس نے جلدی سے کال اٹھائی.
“ہیلو؟”
“ہائے.. بریرہ”
“کیسی ہو..”
“میں ٹھیک تم..”
“ٹھیک ہوں.. تمہاری کال آئی تھی کیا بات ہے؟”
“وہ میں کہہ رہی تھی.. اب تو آ جاؤ واپس سبحان کو تو دیکھ لیا ہو گا”
‘نہیں اب اسکی ضرورت نہیں..”
“کیوں”
“کیونکہ یہی میرا گھر.. میں نے سبحان سے نکاح کر لیا ہے’
“کیا… کیا کہہ رہی ہو تم” وہ بالکل شاکڈ تھی.
“سچ ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی نکاح ہوا.. “
“سبحان مان گیا؟”
“ہمم اسکی مرضی سے ہوا…” زینب حیرانگی میں کچھ بول نہ پائی
“اچھا سبحان کی کیموتھیراپی ہے کل.. تم جیجو کے ساتھ اس سے ملنے ضرور آنا.. پوری بات بتاؤں گی” بریرہ نے قائم ہونے والی خاموشی کو توڑا..
“اچھا ضررو..” اس نے کہتے ہی فون کاٹ دیا.. وہ مزید کچھ کہنے کے قابل نہ تھی… زینب سوچوں میں گم تھی کہ نہ جانے یہ کیا ہو گیا تھا. اس نے ایک بار ان دونوں سے ملنا کا سوچا بھی تھا.. اور وہاں بریرہ سبحان کے ساتھ بستر پہ بیٹھی اسکی خدمت کر رہی تھی. سبحان خوشی سے اپنی بیوی کو دیکھے جا رہا تھی. وہ بہت خوش تھا.. اس کی ایک خواہش تو پوری ہو گئی تھی…
کیسے مجھے تم مل گئی
قسمت پہ آئے بہ یقین
___________
///Don’t copy paste without permission ///
زندگی دو پل کی
قسط نمبر گیارہ: (Last Episode)
وہ اپنی نیلی آنکھوں سے اپنی پھول جیسی شریکِ حیات کو دیکھ رہا تھا. اسکی نظروں میں سبحان ہی تھا. اسکی فکر تھی.. وہ سبحان پہ جان چھڑکتی تھی. سبحان اس معاملے میں بے حد خوش قسمت تھا. اسکی بیوی ہیرے سے کم نہ تھی.. بریرہ پاس بیٹھی اسکی فکر میں اس قدر محو تھی کہ وہ اسکی نظر اپنے اوپر دیکھ نہ پائی. کچھ دیر بعد اس نے سبحان کے چہرے پہ نظر ڈالی. وہ اسی طرف دیکھ رہا تھا.
“کیا دیکھ رہے ہیں؟” بریرہ کو الجھن ہوئی.
“ارے واہ.. شادی سے پہلے نو عزت اب عزت دی جا رہی ہے” سبحان نے چھیڑا.
“تو رشتہ بھی تو بدل گیا ہے اب”
“یعنی دوست کی عزت نہیں کرنی چاہئیے” وہ اسے پکہ چھیڑنے کے موڈ میں تھا..
“اب میں نے ایسا بھی تو نہیں کہا…” وہ تھوڑا روٹھ کر بولی.
“تو کیسے کہا ہے؟”
“ارے آپ تنگ کیوں کر رہے ہیں” وہ پیچھے ہونے لگی کہ سبحان نے اسکا ملائم ہاتھ پکڑ لیا..
“پتہ ہے بریرہ…” وہ بریرہ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا.
“کیا” بریرہ شرم سے نیچے دیکھنے لگی. سچ میں رشتے اب بدل چکے تھے. سبحان نے تھوڑی پہ ہاتھ رکھ کے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا.
“کچھ چیزیں میرے دل کو سکون دیتی ہیں ان میں تمہارا چہرہ سرفہرست ہے” سبحان بالکل پیار سے بولا اور بریرہ شرما گئی….
“تم بہت شرماتی ہو”
“ہوں ہی ایسی…” وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کر بولی. اسکا انداز بےحد پیارا تھا. سبحان نے آگے ہو کر اسکے ماتھے کو چوما
“چلیں سو جائیں بہت رات ہو چکی ہے”
“جو حکم بیگم” دونوں کھکھلا کر ہنسے.. یہ خوشیاں کب تک برقرار تھیں کون جانتا تھا..
******************
زینب کا شوہر نیوزپیپر پڑھ رہا تھا جب زینب اسکے پاس آئی تھی.
“جواد”
“بولو” جواد نے نیوزپیپر میز پہ رکھا
“آپ مجھے لاہور سبحان کے گھر لے چلیں گے؟”
“کیوں خیریت؟”
“میں نے بتایا تھا نہ آپ کو سبحان کا…اسے دیکھنے چلنا ہے”
“ہاں اچھا لڑکا ہے چلیں گے.. لیکن تم کچھ پریشان لگ رہی ہو”
“وہ….” زینب بریرہ کی بات پہ پریشان تھی.
“کیا ہوا ہے زینب کھل کر بتاؤ” بیوی کی پریشانی جواد سے دیکھی نہ گئی..
“وہ سبحان اور بریرہ نے نکاح کر لیا ہے”
“کیا.. تم تو کہہ رہی تھی سبحان کینسر کی لاسٹ سٹیج پہ ہے” جواد بھی حیران ہو گیا
“جی ایسا ہے…”
“پھر تو تمہاری دوست نے غلط فیصلہ نہیں کر دیا؟”
“پتہ نہیں اب” وہ فکر مند تھی.
“چلو.. جو ہونا تھا ہو گیا.. اللہ بریرہ کے حق میں بہتر کرے اور سبحان کو لمبی زندگی عطا کرے..”
“آمین..” زینب کے لبوں سے اچانک نکلا… سبحان کو اس وقت دعاؤں کی اشد ضرورت تھی…
****************
سبحان بستر پہ لیٹا ہوا تھا اور صبح سے اسکے جسم میں شدید درد ہو رہا تھا. جگہ جگہ دکھ رہی تھی. نہ جانے یہ بیماری اسکا پیچھا کب چھوڑے گی.. بریرہ کچن میں کھڑی اس کے لئے ناشتہ تیار کر رہی تھی.. کچھ دیر بعد بریرہ کمرے میں آئی..
“سبحان ناشتہ کر لیں” سبحان کی حالت دیکھ کر بریرہ کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ آئی. اپنے میاں کو درد سے کراہتا دیکھ کر وہ تڑپ اٹھی. سبحان نے اسکی پریشانی نوٹس کی..
“ابھی سے ہار مان گئی” بریرہ فوراً ٹرے لے کر اسکے پاس آئی ..
“سبحان مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے”
“وجہ” وہ نارمل انداز میں بولا..
“کچھ دیر بعد آپکی کیموتھیراپی ہے.. اور کینسر کا علاج بہت سخت ہوتا ہے…”
“اچھا.. تو میری بیگم وہ یقین کہاں گیا جو کچھ دن پہلے آپ کو تھا؟”
“یقین تو پہلے بھی تھا لیکن ڈر..” اسکی بات کاٹ دی گئی
“جہاں یقین ہو وہاں ڈر نہیں ہوتا اور جس یقین میں ڈر آجائے وہ پورا نہیں ہوتا.. سمجھی” بریرہ نے جواباُ سر ہلایا..
“ناشتہ کروائیں” سبحان مسکرا کر بولا. بریرہ نے آگے ہو کر سبحان کو ناشتہ کروایا… ان کا پیار محبت سب چیزیں انمول تھیں..
******************
دوپہر کا وقت تھا اور وہ دونوں ہاسپٹل کے لئے نکلنے ہی والے تھے. بریرہ بے حد پریشان تھی. سبحان کی فکر اس کے ذہن پہ چھائی ہوئی تھی.. مسرت نے بھی ساتھ ہی ہاسپٹل جانا تھا.. جونہی بریرہ سبحان کو لینے کے لئے آئی سبحان بیڈ سے اٹھ چکا تھا.. بریرہ دوڑ کر پاس آئی..
“آپ مجھے بلا لیتے اٹھ کیوں گئے”
“ارے بابا ٹھیک ہوں..” بریرہ نے آنکھ اوپر اٹھا کر دیکھا سبحان نے اسکی آنکھوں کی فکر کو محسوس کیا..
“چلیں” جواب دینے کے باوجود اس نے بریرہ کے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کے اسے قریب کیا…
“جانتی ہو بریرہ” وہ اسکی فکر کم کرنا چاہتا تھا…
“کیا” وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی..
“تمہیں اپنی آنکھوں میں نہیں رکھا کہیں آنسوؤں کے ساتھ بہہ نہ جاؤ تمہیں اپنے دل میں رکھا ہے تا کہ ہر دھڑکن کے ساتھ یاد آؤ” بریرہ نے آنکھ اٹھا کر سبحان کا چہرہ دیکھا. وہ رومانٹک انداز میں بولا تھا..
“حد ہے آپ کو اس وقت رومانس سوجھ رہا ہے” وہ صحیح تھی سبحان کو غلط وقت پہ ہی رومانس سوجا تھا.
“ہاں تو کس ماہا پرش نے کہا ہے کہ… ہسپتال جاتے وقت بیوی سے رومانس نہیں کر سکتے؟” وہ چڑ کر بولا..
“کسی نے نہیں …ہٹیں..” اس نے خود کو سبحان کی گرفت سے چھڑوایا.. دروازے کے پاس پہنچ کر وہ سبحان کی طرف مڑی..
“آ جائیں جلدی سے”
“آ رہا ہوں”
*******************
سبحان آپریشن تھیٹر میں تھا..شعاؤں کے ذریعے اسکا علاج کیا جا رہا تھا.. بریرہ اور مسرت ہسپتال میں ہی تھے. دونوں کی دل کی دھڑکنیں تیز تھیں..
“امی میں ذرا آتی ہوں”
“کدھر جا رہی ہو؟”
“سبحان کے لئے دعا کرنے” وہ کہتی ہوئی وہاں سے چل پڑی.. کسی کونے میں جا کر اس نے نفل ادا کئے اور روتی آنکھوں سے سجدے میں گر پڑی. اس نے ہاتھ اٹھا کر لمبی چوڑی دعا کی.
“اے میرے رب تو تو ہر چیز پہ قادر ہے.. تو کچھ بھی کر سکتا ہے.. میری دعا کو قبول کر دے..تو کتنی ہی جاندار کو صحت بخشتا ہے..میرے شوہر کو بھی صحت جیسی نعمت نصیب کر.. تو میرے دل کی گہرائیوں سے واقف ہے.. تو سبحان کے لئے میری محبت کو بھی جانتا ہے.. اسے مجھ سے جدا نہ کر.. میرے ماں باپ میرا بھائی سب چلے گئے میرے شوہر کو مجھ سے جدا نہ کر.. میں تیری شکر گزار ہوں تو نے مجھے ہر موڑ پہ سنھبالا.. زینب کے روپ میں بھائی کی جگہ بہن دی..سکینہ آنٹی کے روپ میں ایک ماں دی.. سبحان کے روپ میں دوسری محبت دی اور اسکو میرا ہمسفر بنایا.. مسرت کے روپ میں ایک اور ماں سے نوازا جو میرے پہ جان چھڑکتی ہیں.. میں تیری بےحد شکر گزار ہوں.. اب اپنے اس گناہگار بندی پہ ایک اور کرم فرما دے.. میرے شوہر کو زندگی عطا کر دے.. میری اس خواہش پہ کُن فَیَکون فرما دے” اس نے اپنے آنسوؤں سے بھیگے چہرے پہ ہاتھ پھیرے اور مسرت کی طرف آئی.. اسکے چہرے پہ ایک یقین تھا.. اللہ پہ پکہ بھروسہ ہو گیا تھا کہ وہ اسکی دعا رد نہیں کرے گا
“امی ڈاکٹر آئی؟” اسکے کہنے کی دیر تھی کہ ڈاکٹر توُبہ آپریش تھیٹر سے باہر نکلی. بریرہ دوڑ کے انکے پاس آئی..
“سبحان کیسا ہے؟..”
“ٹھیک ہے ابھی تو… فکر مت کرو.. اب علاج شروع ہوا تو افاقہ ضرور ہو گا.. میں نے کتنے ہی بلڈ کینسر پیشنٹز کو تندرست ہوتے دیکھا ہے..اور سبحان مجھے ویسے بھی پہلے سے نتدرست لگا ہے”
“آپ کی زبان مبارک ہو” ڈاکٹر کی تسلی بریرہ کو بےحد اچھی لگی..
“اب بات یہ ہے کہ.. دو سے چھ ماہ تک سبحان کی وقفے وقفے سے کیموتھیراپی ہوا کرے گی.. اور ہر کیموتھیراپی سے معلوم ہو گا کہ ہم کس قدر کینسر کو کنٹرول کر پائے.. باقی آپ اللہ سے دعا کرو.. وہی زندگی دینے والا ہے..”
“ٹھیک ہے” بریرہ نے جواب دیا…
“ڈاکٹر ہم سبحان سے مل سکتے ہیں…” مسرت نے پوچھا.
“جی مل لیں.. کچھ دیر بعد اسے یہاں سے لے بھی جائیں..”
“جی بہتر” وہ دونوں جواب دے کر کمرے میں گئیں.. نیلا لباس پہنے وہ سٹریچر پہ لیٹا ہوا تھا. علاج نے اسے تھکا دیا تھا.. وہ بےحد مشکل سے آنکھیں کھول پایا تھا.
“امی اسکے سامنے روئیے گا نہیں..” اس نے مسرت سے سرگوشی کی اور انہوں نے سر ہلایا.
“سبحان بیٹا…” مسرت نے سر پہ ہاتھ پھیرا…
“جی امی..” وہ بہت مشکل سے بول پایا تھا…
“ڈاکٹر کہہ رہی ہیں تم ٹھیک ہو جاؤ گے…”
“انشااللہ” وہ آہستہ سا بولا اور بریرہ پہ نظر ڈالی جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی.. سبحان بھی بدلے میں مسکرایا
تیری مسکراہٹیں ہیں طاقت میری
مجھ کو انہیں سے امید ملی
**************************
زینب رستے میں تھی اور وہ بریرہ اور سبحان سے ہی ملنے جا رہی تھی..اس نے بریرہ کو فون ملایا…
“اسلامُ علیکم..” بریرہ نے فورًا کال اٹھا لی تھی.
“وعلیکم اسلام.. کیسی ہو سبحان کیسا ہے؟”
“سب ٹھیک ہے… ابھی ہی بس ہاسپٹل سے واپسی ہوئی ہے”
“ٹھیک ہی نہ سبحان…” اسکی آواز میں فکر تھی.
“ہاں آرام کر رہا ہے…”
“چلو صحیح ہے ہم بھی بس پہنچنے والے ہیں…”
“اوکے خیریت سے آؤ” جواب سن کر زینب نے فون کاٹ دیا..
کچھ دیر بعد وہ پہنچ گئے..بریرہ نے دروازہ کھولا اور زینب نے اسے گلے لگا لیا…
“کیسی ہو میں نے تمہیں بہت مس کیا”
“بالکل ٹھیک…میں نے بھی کیا.. آپ دونوں آئیں نہ اندر” بریرہ نے راستہ دیا..
“کہاں ہے سبحان..” جواد نے پوچھا.
“آئیں میں آپ کو لے چلتی ہوں…”
تھوڑی ہی دیر بعد وہ سبحان کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے..
“یار تم دونوں سے ایک گلہ ہے اپنے نکاح پہ بلایا ہی نہیں”
“کیا کرتے سب جلدی میں ہوا زینب..” سبحان بولا..
“اچھا چلو خیر ہے.. اللہ تم دونوں کو خوش رکھے اور سبحان کو صحت یاب کرے”
جواد, بریرہ اور سبحان تینوں نے ایک ساتھ آمین کہا اور باقی کا وقت باتوں میں گزر گیا.. اور کچھ دیر بعد زینب اور اسکا شوہر وہاں سے چلے گئے…
***************
مہینے گزر گئے تھے اور سبحان کا علاج وقتاً فوقتاً ہو رہا تھا.. علاج سے بیماری کنٹرول میں آ گئی تھی.. آج اسکی آخری کیموتھیراپی تھی.. بریرہ اسکے پاس بیٹھی اسکو ہسپتال لے جانے کے لئے تیار کروا رہی تھی..
“اف پھر سے علاج کا درد ہو گا” وہ منہ بنا کر بولا..
“آخری تھیراپی ہے آج تو اور میں جانتی ہوں کینسر کا علاج سخت ہوتا ہے”
“ہم علاج کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کسے نے کتنی ہی سوئیاں میرے جسم میں کھبو دیں” وہ منہ بنا کر بولا
“آخری بار برداشت کر لیں بس…”
“ہاں ایک تو میرے بال بھی جھڑتے جا رہے ہیں”
“ہاں کیموتھیراپی کا سائڈایفیکٹ ہے اور آپکو بالوں کی کیا پڑی ہے؟”
“جانتا ہوں.. بالوں کی یہ پڑی ہے کہ آپ کا شوہر گنجا ہو جائے پھر آپ کو پیارا نہیں لگے گا..”
“حد ہے سبحان… ایسا نہیں ہے”
“ہوا تو” وہ آنکھوں میں دیکھ کر بولا
“نہیں ہو گا… ایک بات بتاؤں…”
“بتائیں” وہ اب تک بریرہ کی آنکھوں میَ دیکھ رہا تھا.
“آپ سے محبت ہے اسلئے خوبصورت لگتے ہیں…خوبصورت ہیں اسلئے محبت نہیں ہے آپ سے.. تو آپ گنجے بھی ہو جائیں میری محبت میں کمی نہیں آئی گی..” وہ آنکھوں میں دیکھ کر بولی..
“ارے بھئی واہ… میرے بیگم نے دل جیت لیا..” اسکی آنکھوں میں چمک تھی.. بریرہ کے بولنے کے انداز نے اسے بےحد خوشی اور طاقت دی تھی.. اس نے آگے ہو کر بریرہ کا ماتھا چوما..
میں تینو سمجھاواں کی
نہ تیرے بنا لگدا جی
تو کی جانے پیار میرا
میں کراں انتظار تیرا
“اچھا اب اٹھیں نکلتے ہیں…” وہ بستر سے اٹھ کر بولی..
“جی اوکے دراز سے میرے دوائیاں بھی نکال لیں.. “
“اوکے” بریرہ نے دراز کھولی اور دوائیوں کے نیچے اسے چمکتی ہوئی چیز نظر آئی.. اس نے وہ چیز اٹھائی.. یہ اسکی وہی لال بندیا تھی جو اس نے زینب کی بارات پہ پہنی تھی..
“سبحان یہ آپ نے اب تک سنھبال کر رکھی..؟” بریرہ نے سبحان کی طرف بندیا کی..
“او ہاں.. آپکی ہر چیز کو سنھبال کر ہی رکھنا تھا…”
“اتنا پیار کرتے ہیں میرے سے؟”
“بہت زیادہ.. اسی پیار نے مجھے ہمت دی ہے..میری اس دو پل کی زندگی میں خوشیاں لایا یہ پیار” بریرہ کے آنکھوں میں آنسو آئے لیکن اس بار خوشی کے آنسو تھے…
*****************
مسرت.. سبحان اور بریرہ ہاسپٹل آ چکے تھے..آپریش تھیٹر میں سبحان کا علاج ہو رہا تھا. آج اسکا کینسر پوری طرح سے مٹ بھی سکتا تھا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی خدشہ تھا کہ کسی اعضا سے یہ بیماری دوبارہ نہ پھوٹ پڑے.. کچھ دیر بعد آپریشن تھیٹر سے ڈاکٹر تُوبہ نکلیں.. مسرت اور بریرہ دوڑ کر انکے پاس گئی..
“مبارک ہو.. چھ مہینے کے علاج کے بعد سبحان کے سارے کینسر کے سیل (cells) ختم ہو گئے ہیں.. وہ اب ٹھیک ہے آپکی دعاؤں کا اثر ہے کہ اسے نئی زندگی مل گئی..” ڈاکٹر کے الفاظ نے مسرت اور بریرہ کے چہرے پہ چار چاند لگا دئیے..
“شکریہ بہت بہت آپ کا.. اللہ آپکے گھر میں برکت ڈالے…” مسرت ڈاکٹر سے مخاطب ہوئیں…
“ارے اسکی کوئی بات نہیں ہمارا کام ہی لوگوں کی جانیں بچانا ہے…”
“لیکن آپ نہ ہوتیں..تو نہ جانے میرے شوہر کا علاج کیسے ہوتا.. بہت بہت شکریہ..” ڈاکٹر توبہ کو بریرہ نے گلے لگایا. وہ بہت زیادہ خوش تھی.. اللہ نے اسکی دعا کو قبول کر لیا تھا..
“امی آپ سبحان کے پاس چلیں میں شکرانے کے نفل ادا کر کے آتی ہوں..” بریرہ مسرت سے مخاطب ہوئی…
“اوکے بیٹا” ماں کے آنکھوں کی چمک واپس آگئی تھی.. بریرہ وہاں سے چلی گئی… مسرت بیٹے کے پاس آئیں اور اسکو گلے لگایا.. سبحان بھی بےحد خوش تھا.. اسکی ماں اور خاص کر بیوی کی دعاؤں نے اسے نئی زندگی بخشی تھی..
“امی بریرہ کہاں ہے…”
“وہ شکرانے کے نفل ادا کرنے گئی ہے…” سبحان کے لبوں پہ مسکراہٹ آئی. اسکو بریرہ پہ بےحد پیار آیا.. اسکا خیال اسکی محبت نہ ختم ہونے کے برابر تھی.. بریرہ اسکے لئے ایک بڑی نعمت تھی.. سبحان کو وہ آیت یاد آئی
“اور تم اپنے خدا کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے”
“بےشک خدا بڑا بےنیاز اور رحم کرنے والا تھا” اسکے لبوں سے بےساختہ نکلا.. وہ سٹریچر سے اٹھنے لگا..
“بیٹا کہاں جا رہے ہو؟”
“بریرہ کی طرح میں بھی شکرانے کے نفل ادا کروں گا…” وہ کہتا ہوا اٹھا.
“لیکن طبیعت؟”
“میں بالکل ٹھیک ہوں امی..رہی بات درد کی تو برداشت کے قابل ہے” وہ کہتا ہوا چلا گیا.. پہلے اس نے اپنی بیوی کو کونے کونے میں دھونڈا.. پھر ایک کونے میں بریرہ سبحان کو نظر آئی.. وہ جائے نماز پہ سجدہ کر رہی تھی.. سبحان لبوں پہ مسکراہٹ لئے وہاں پہ پہنچا.. اس نے بریرہ کے برابر ہی تھوڑا سا آگے کر کے جائے نماز بچھائی اور شکرانے کے نفل ادا کرنے لگا.. کچھ دیر بعد جب وہ سلام پھیر رہا تھا اسکی نظر بریرہ پہ پڑی. وہ اسی کو دیکھ رہی تھی..
“سبحان آپ یہاں”
“شش ابھی مجھے تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھنے دو” بریرہ بدلے میں کچھ نہ بول پائی بس مسکرا دی..سبحان مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا. دونوں کی نظروں میں ایک دوسرے کے لئے بےحد محبت اور ادب تھا.. وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھو چکے تھے.. ان کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لئے پاکیزہ محبت جگمگا رہی تھی…
او کرم خدایا ہے تجھے مجھ سے ملایا ہے
تجھ پہ مر کے ہی تو مجھے جینا آیا ہے
اس دو پل کی زندگی میں بریرہ اور سبحان کو اللہ پاک نے سنھبال لیا تھا.. بریرہ کی محرمیوں کو پورا کرنے کے لئے اسے سبحان جیسا ساتھی ملا تھا اور سبحان کی زندگی بریرہ کی دیکھ بھال , یقین , اعتماد اور اللہ پہ بھروسے سے بڑھ چکی تھی.. اگر سبحان اسکی عزت بچا کر اسکی زندگی کا مسیحا بنا تھا تو بریرہ نے بھی سبحان کی زندگی کا دیا اپنی دعاؤں کے ذریعے جلا دیا تھا… اگر دعا دل سے اور پکے یقین کے ساتھ مانگی جائے تو قبول ضرور ہوتی ہے.. ایسا ہی اقبال نے نہیں کہا
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں , طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
ہمیں اللہ سے گلہ کرنے کے باوجود اسکا شکر ادا کرنا چاہئیے.. اس نے ہمیں کتنی ہی نعمتوں سے نوازا ہے…اس کے ساتھ ساتھ محبت کرنا جائز ہے لیکن محبت میں پاکیزگی اور پختگی ہونی چاہئیے. محبت وہی کامیاب ہوتی ہے جو سچی ہو یا دل سے کی گئی ہو. اگر بریرہ ذیشان سے سچی محبت کرتی تو وہی اسکا نصیب بنتا لیکن بریرہ کو سچی محبت سبحان سے ہوئی اور وہ اسے مل بھی گئی…
اللہ کی بارگاہ میں کوئی دل سے کی گئی دعا رد نہیں ہوتی اور جو قبول نہ ہو اسکے بدلے میں انسان کو اس سے بھی بہتر ملتا ہے… لہزا انتظار کیجئے اور اپنے رب پر کامل یقین بھروسہ اور توکل کیجئے..
وہ مولا سب کی سنتا ہے
پر کسی کسی کو چنتا ہے
پڑھنے کا شکریہ اس کہانی سے جو پیغام دینا تھا میں دے چکی ہوں…

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: